رستہ کوئی بھٹکے نہیں رہ گیر بتا دے
اس بھیڑ میں اک مثلِ خضر میر بتا دے
آنکھوں میں لیے اشک مجھے چُوم رہا تھا
کوئی مجھے اس خواب کی تعبیر بتا دے
چھُونے سے ابھی تیرے مِرا زخم ہرا ہے
چھوڑ آئے کہاں لمس کی تاثیر، بتا دے
درپیش نئی سمت، نیا شوق ہے مجھ کو
اے خانہ بدوشی!! کوئی تدبیر بتا دے
اس جیسا تو دُوجا کوئی ممکن ہی کہاں ہے
اک نقش مقابل کوئی تصویر، بتا دے
مجھ کا مِرے معمار نے چھوڑا ہے ادھورا
اب کون کرے گا مِری تکمیل بتا دے
سارہ خان
No comments:
Post a Comment