لکھ جائے گا اک ہجر سزاؤں میں کسی دن
اُڑ جائے گا وہ اپنی ہواؤں میں کسی دن
اس آس پہ اک عمر گزار آئی ہوں میں بھی
آ جاؤں گی میں تیری دعاؤں میں کسی دن
کیا اس کے رویے پہ بھروسہ کوئی رکھے
لکھ دے گا محبت کو خطاؤں میں کسی دن
اقرار کی زحمت نہیں کرتا، نہ کرے وہ
کھل جائے گا معصوم اداؤں میں کسی دن
پرواز پرندے کی طرح سے وہ کریں اور
ہم گھورتے رہ جائیں خلاؤں میں کسی دن
پھولوں کی تمنا پہ نکل آئی ہوں، لیکن
کانٹے نہ الجھنے لگیں پاؤں میں کسی دن
عنبرین خان
No comments:
Post a Comment