Wednesday, 21 April 2021

تیری صدا کی آس میں اک شخص روئے گا

 تیری صدا کی آس میں اک شخص روئے گا

چہرہ اندھیری رات کا اشکوں سے دھوئے گا

شعلے ستم کے لائے گی اب رات چاندنی

سورج بدن میں دھوپ کے خنجر چبھوئے گا

اے شہرِ نا مراد! تجھے کچھ خبر بھی ہے

دریا دکھوں کے زہر کا تجھ کو ڈبوئے گا

پربت گرے گا ٹوٹ کے گہرے نشیب میں

کب تک جمود برف کا وہ بوجھ ڈھوئے گا

فکری تُو اپنی بات کا انداز تو بدل

ورنہ خزینہ نام کا اک روز کھوئے گا


پرکاش فکری

No comments:

Post a Comment