Monday, 16 August 2021

کرب تحریر سے نکل آیا

کرب تحریر سے نکل آیا

رنگ تصویر سے نکل آیا

بات بنیاد کی نکل آئی

عیب تعمیر سے نکل آیا

کتنا اچھا ہے ناتواں ہونا

پاؤں زنجیر سے نکل آیا

وار اتنا شدید تھا میرا

زخم شمشیر سے نکل آیا

اب وہ تنہا کھڑا ہوا ہے کہ میں

اس کی تصو یر سے نکل آیا

دوست محفل سے اٹھ گئے میں بھی

تھوڑی تاخیر سے نکل آیا

حبس ٹوٹا تو یوں لگا توقیر

شہر تعزیر سے نکل آیا


توقیر عباس

No comments:

Post a Comment