Monday, 16 August 2021

بے خبر جہان سے محو ہوں دھمال میں

 بے خبر جہان سے محو ہوں دھمال میں

ہر گھڑی تلاشتا میں تمہیں خیال میں

فیصلہ کریں گی خود نسبتیں وجود کی

کون ہے عروج میں کون ہے زوال میں

عشق کے مدار میں حسن کے حصار میں

دیکھ کر جناب کو ہو گیا نڈھال میں

توڑ کر روایتیں بھول کر حکایتیں

آ گیا نگاہ میں، پھنس گیا وبال میں

میکدے میں شور ہے بیخودی کا زور ہے

کس طرح تڑپ رہا ہے نیاز حال میں


نیاز احمد عاطر

No comments:

Post a Comment