بے خبر جہان سے محو ہوں دھمال میں
ہر گھڑی تلاشتا میں تمہیں خیال میں
فیصلہ کریں گی خود نسبتیں وجود کی
کون ہے عروج میں کون ہے زوال میں
عشق کے مدار میں حسن کے حصار میں
دیکھ کر جناب کو ہو گیا نڈھال میں
توڑ کر روایتیں بھول کر حکایتیں
آ گیا نگاہ میں، پھنس گیا وبال میں
میکدے میں شور ہے بیخودی کا زور ہے
کس طرح تڑپ رہا ہے نیاز حال میں
نیاز احمد عاطر
No comments:
Post a Comment