بالی ہے مرے کان میں پیروں میں کڑا ہے
میرے لیے اعزاز غلامی کا بڑا ہے
ساتھ اس کے مجھے کاٹ گرائے گا زمانہ
یہ پیڑ نہیں ہے مرا ہمزاد کھڑا ہے
معلوم نہیں کونسی رت اذنِ نمو دے
اک سایہ جو صدیوں سے تہِ برف پڑا ہے
امواج پہ بھی اس کا ہوا عکس نمایاں
وہ شخص جو ساحل پہ اداسی سےکھڑا ہے
یہ لوگ تو سنتے ہی نہیں بات کسی کی
اپنا جسے سمجھے ہو کوئی اور دھڑا ہے
اک سمت چٹائی پہ ہے درویش کی دنیا
اک سمت ہُمکتا ہوا پانی کا گھڑا ہے
احباب تو خوابوں کے مزے لوٹ رہے ہیں
جو پیش نشستیں مجھے کرتا ہے، تھڑا ہے
توقیر عباس
No comments:
Post a Comment