Wednesday, 18 November 2020

بالی ہے مرے کان میں پیروں میں کڑا ہے

 بالی ہے مرے کان میں پیروں میں کڑا ہے

میرے لیے اعزاز غلامی کا بڑا ہے

ساتھ اس کے مجھے کاٹ گرائے گا زمانہ

یہ پیڑ نہیں ہے مرا ہمزاد کھڑا ہے

معلوم نہیں کونسی رت اذنِ نمو دے

اک سایہ جو صدیوں سے تہِ برف پڑا ہے

امواج پہ بھی اس کا ہوا عکس نمایاں

وہ شخص جو ساحل پہ اداسی سےکھڑا ہے

یہ لوگ تو سنتے ہی نہیں بات کسی کی

اپنا جسے سمجھے ہو کوئی اور دھڑا ہے

اک سمت چٹائی پہ ہے درویش کی دنیا

اک سمت ہُمکتا ہوا پانی کا گھڑا ہے

احباب تو خوابوں کے مزے لوٹ رہے ہیں

جو پیش نشستیں مجھے کرتا ہے، تھڑا ہے


توقیر عباس

No comments:

Post a Comment