Wednesday, 18 November 2020

موسم وصل کے امکان میں رکھے ہوئے ہیں

 موسم وصل کے امکان میں رکھے ہوئے ہیں

کچھ حسیں لوگ مرے دھیان میں رکھے ہوئے ہیں

کون کیا سوچتا ، کیا کرتا ہے کیسے جانیں؟

کچھ الگ سلسلے انسان میں رکھے ہوئے ہیں

صوفی جس مستی میں تُو ناچتا، اتراتا ہے

رقص یہ سب مرے وجدان میں رکھے ہوئے ہیں

تجھ سے ملنے کی خبر سن کے مہک اٹھا ہوں یوں

عطر جیسے مرے دالان میں رکھے ہوئے ہیں

حسن پلتا ہے کبھی جھونپڑی میں اور کہیں

ہیرے کچھ کوئلے کی کان میں رکھے ہوئے ہیں

شعر سن کر مرے اس شوخ نے جو پھول دئیے

میں نے وہ چوم کے گلدان میں رکھے ہوئے ہیں

میں بچھڑنے کا جو سوچوں تو لرز اٹھتا ہوں

ہجر کے خوف مری جان میں رکھے ہوئے ہیں

اس لیے چاہتا ہوں تجھ پہ نچھاور ہونا

عشق نے فائدے نقصان میں رکھے ہوئے ہیں

پچھلی بارش میں جو بھیگے تھے، وہ جوتے تیرے

اب بھی کیچڑ سے بھرے لان میں رکھے ہوئے ہیں

تری آوازوں سے، تصویروں سے، تحریروں سے

بھرے فون آج بھی سامان میں رکھے ہوئے ہیں

وہ اگر مجھ سے گریزاں ہے تو میں نے بھی قمر

فیصلے آخری اعلان میں رکھے ہوئے ہیں


قمر ریاض

No comments:

Post a Comment