بستی تمام سہمی ہے بارش کے زور سے
بے چین ہوں میں اپنے ہی اندر کے شور سے
وہ حُسنِ جاں فروز تو بِینائی لے گیا
اب کیا دکھائی دے مجھے اس چشمِ کور سے
تاروں سے روز مشورہ کرتی ہے چاندنی
چھینے کوئی تو اُڑنے کی خواہش چکور سے
وہ کام میرا تشنۂ تکمیل ہی رہا
جس کو شروع کِیا تھا بڑے زور شور سے
یارو! وہ دور سمع خراشی ہوا ہے ختم
اب نیند آتی ہے مجھے بچوں کے شور سے
موسم نے رقص کے لیے مجبور کر دیا
برسات کا عجیب تعلّق ہے مور سے
یوں دل ہے آرزو کے تسلّط میں ان دنوں
جیسے کوئی پتنگ اُڑاتا ہو ڈور سے
یہ ہے بشر کی آخری آرام کی جگہ
مجذوب لوگ کس لیے ڈرتے ہیں گور سے
مجذوب چشتی
No comments:
Post a Comment