Wednesday, 18 November 2020

صبح کے درد کو راتوں کی جلن کو بھولیں

 صبح کے درد کو راتوں کی جلن کو بھولیں

کس کے گھر جائیں کہ اس وعدہ شکن کو بھولیں

آج تک چوٹ دبائے نہیں دبتی دل کی

کس طرح اس صنمِ سنگ بدن کو بھولیں

اب سوا اس کے مداوائے غمِ دل کیا ہے

اتنی پی جائیں کہ سب رنج و محن کو بھولیں

اور تہذیبِ غمِ عشق نبھا دیں کچھ دن

آخری وقت میں کیا اپنے چلن کو بھولیں


جاں نثار اختر

No comments:

Post a Comment