نہ اٹھے حجاب سارے، مرے ان کے درمیاں سے
کبھی کچھ کہا نظر سے، کبھی کچھ کہا زباں سے
ہوئیں بارشیں کرم کی، اسی وقت آسماں سے
جو لپٹ کے رو دئیے ہم ترے سنگِ آستاں سے
جو بیان ہو ان سے قاصد تو ذرا سنبھل سنبھل کر
انہیں اضطراب ہو گا، مِرے غم کی داستاں سے
یہ فریب ہے مثالی، کہ ہیں دونوں ہاتھ خالی
مجھے مل سکا نہ کچھ بھی مری عمرِ رائیگاں سے
کسے صبر کا ہو یارا کہ الٹ چلی ہے قسمت
نظر آ رہے ہیں اب تو مجھے وہ بھی بدگماں سے
مجھے ساتھ ساتھ رکھا اسی دن کے واسطے کیا
نہ چھڑائیں اب وہ دامن، مِرے دستِ ناتواں سے
کہیں بن نہ جائیں اک دن، یہی تتلیاں قفس کی
جو گرے ہیں چند تنکے، مری شاخِ آشیاں سے
مری بات تُو جو مانے، تو چھوڑ دے بہانے
جو نہیں سے بات بگڑی وہ سنوار ایک ہاں سے
ابھی حوصلے نکالو، ابھی اور کچھ ستا لو
تمہیں پھر پتہ چلے گا جو ہم اٹھ گئے جہاں سے
وہ نہ پا سکیں گے منزل، انہیں کچھ نہ ہو گا حاصل
جو بچھڑ گئے ہیں قصداً، سرِ راہ کارواں سے
وہ حسین دورِ ماضی، کسی طرح لَوٹ آتا
میرا سینہ پھٹ رہا ہے غمِ یادِ رفتگاں سے
اسے جانتی ہے دنیا، اسے مانتا ہے عالم
جو نصیر کو لگن ہے، ترے سنگِ آستاں سے
سید نصیرالدین نصیر
No comments:
Post a Comment