سوال اس سے ہمارا کہاں نباہ کا ہے
مطالبہ ہے مگر، صرف اک نگاہ کا ہے
ہمیشگی کے مراسم تو دل کو راس نہیں
علاج اس کا وہی ربطِ گاہ گاہ کا ہے
وصال و ہجر سے میں کس کا انتخاب کروں
یہاں پہ خود سے مجھے خوف اشتباه کا ہے
خبر نہیں ہے ابھی اس کی کم نگاہی کو
کہ ایک مرحلہ خود یہ بھی رسم و راہ کا ہے
مؤرخوں کو کسی اور پر نہ شک گزرے
کہ مجھ کو مارنے والا مری سپاہ کا ہے
معین نظامی
No comments:
Post a Comment