Wednesday, 18 November 2020

جو رنگ ہائے رخ دوستاں سمجھتے تھے

 جو رنگ ہائے رُخِ دوستاں سمجھتے تھے

وہ ہم نفس بھی مرا دکھ کہاں سمجھتے تھے

محبتوں میں کنارے نہیں مِلا کرتے

’’مگر یہ ڈوبنے والے کہاں سمجھتے تھے‘‘

کُھلا کہ چادرِ شب میں بھی وسعتیں ہیں کئی

ذرا سی دھوپ کو ہم آسماں سمجھتے تھے

خزاں کے عہدِ اسیری سے پیش تر طائر

چمن میں موسمِ گل کی زباں سمجھتے تھے

انہیں بھی دہر کی فرزانگی نہ راس آئی

جو کارِ عشق کے سُود و زیاں سمجھتے تھے

کسی کا قُرب قیامت سے کم نہیں تھا سعید

فقط فراق کو ہم امتحاں سمجھتے تھے


مبشر سعید

No comments:

Post a Comment