دکھے دلوں پہ جو پڑ جائے وہ طبیب نظر
تو باغ دل میں بھی آ جائیں عندلیب نظر
ہر ایک صبح وضو کرتی ہیں مری آنکھیں
کہ شاید آج تو آ جائے وہ حبیب نظر
اسی طرح سے رہِ یار کو تکے جانا
حد نظر کو گرا دے گی عنقریب نظر
تُو انتظار سے چھٹ کر ہے خوش مگر مجھ کو
بجھا دو شمع محبت، جلا دو گلشنِ عشق
ڈرا سکے گی نہ عاشق کو یہ مہیب نظر
جمال و حسن کے قائل ہیں اس کے سب اجمل
بس ایک تم ہی یہاں رکھتے ہو عجیب نظر
اجمل صدیقی
No comments:
Post a Comment