Wednesday, 18 November 2020

اس لیے بولتی ہو شہزادی

 اس لیے بولتی ہو شہزادی 

تم یہاں پر نئی ہو شہزادی

سلطنت ہے یہ کند ذہنوں کی

خواب کیوں دیکھتی ہو شہزادی

کل بتایا تھا اک کنیز نے یہ

اصل میں تم پری ہو شہزادی

اصل میں تم پری ہو شہزادی 

یہ کسک کھا رہی ہے میرا وجود 

تم کسی اور کی ہو شہزادی

میں تمہاری کہانی کا کردار

تم مری شاعری ہو شہزادی

میں تمہاری ہی بات کر رہا تھا

اور تم آ گئی ہو شہزادی

اب تو میں گاؤں چھوڑ آیا ہوں

اب کہاں جا رہی ہو شہزادی

میری پونجی بہت ہی کم ہے مگر

تم بڑی ہو گئی ہو شہزادی


مبشر میو

No comments:

Post a Comment