اس لیے بولتی ہو شہزادی
تم یہاں پر نئی ہو شہزادی
سلطنت ہے یہ کند ذہنوں کی
خواب کیوں دیکھتی ہو شہزادی
کل بتایا تھا اک کنیز نے یہ
اصل میں تم پری ہو شہزادی
اصل میں تم پری ہو شہزادی
یہ کسک کھا رہی ہے میرا وجود
تم کسی اور کی ہو شہزادی
میں تمہاری کہانی کا کردار
تم مری شاعری ہو شہزادی
میں تمہاری ہی بات کر رہا تھا
اور تم آ گئی ہو شہزادی
اب تو میں گاؤں چھوڑ آیا ہوں
اب کہاں جا رہی ہو شہزادی
میری پونجی بہت ہی کم ہے مگر
تم بڑی ہو گئی ہو شہزادی
مبشر میو
No comments:
Post a Comment