رنج بے کار تھا سو کم کیا میں
یہ بھی خود پر بڑا کرم کیا میں
اس کا سارا بدن کیا تازہ
اس کے سارے بدن پہ دم کیا میں
وصل کی یاد تک نہیں رکھی
ہجر کو ایسے محترم کیا میں
آج اپنی بھی مان لی میں نے
اس کی مرضی کو مختتم کیا میں
مدتوں سے وہ روئے پژمردہ
خشک تھا آنسوؤں سے نم کیا میں
کرچیاں دور تک بکھرتی گئیں
سنگ اور آئینہ بہم کیا میں
مجھ کو افسوس ہے بہت خاور
اس کو ناحق شریکِ غم کیا میں
خاور اسد
No comments:
Post a Comment