ہر مشکل یوں ٹالی ہے
ماں کی نیک دعا لی ہے
آج شرافت دنیا میں
ایک مہذب گالی ہے
آج بھی تیرے جلووں سے
آنکھ کا کاسہ خالی ہے
عشق ریا کی دلی میں
احمد شاہ ابدالی ہے
بیٹے جس کے تابع ہوں
ماں وہ کرماں والی ہے
اللہ بیلی کٹیا کا
آندھی آنے والی ہے
جان لٹا کر ناز اپنی
ہم نے آن بچا لی ہے
ناز خیالوی
No comments:
Post a Comment