ہزاروں چہرے ہوئے رہِ حیات میں گم
مگر یہ لوگ یہاں پھر بھی تجربات میں گم
مِرا یہ وہم ہے جو میں دکھائی دیتی ہوں
مِری تو ذات ہوئی کسی کی ذات میں گم
مِرے نصیب نے یوں مجھ سے پھیر لی آنکھیں
کہ جیسے چاند ہو جا کے سیاہ رات میں گم
خیال آیا نہ میرے خیال میں کسی کا
میں ایک عمر سے ہوں اپنی کائنات میں گم
وہ اب بھی روشنی سے خوف کھاتا پھرتا ہے
کہ جس کا بچہ ہوا تھا شبِ برأت میں گم
گیا نہیں ہے زمانہ ابھی وہ بچپن کا
جو تتلی پکڑی تھی وہ ہو گئی ہیں ہاتھ میں گم
کرن میں اس کے ارادوں کو بھانپ لیتی ہوں
اس لیے تو میں رہتی ہوں اپنی ذات میں گم
کرن وقار
No comments:
Post a Comment