رات بھر انتظار کرتی رہی
میں ستارے شمار کرتی رہی
یاد آتی رہی تیری ہر پل
اور مجھے بےقرار کرتی رہی
میں وہ لڑکی ہوں جو محبت میں
سارے جذبے نثار کرتی رہی
اس نے دھوکے دئیے ہر بار
اور میں اعتبار کرتی رہی
دل کے بہلانے کو خزاں رُت میں
ذکرِ فصلِ بہار کرتی رہی
جس کو آنا تھا آ چکا وہ کرن
خود کو میں یونہی خوار کرتی رہی
کرن وقار
چند روز قبل بزرگ والدہ اور جوان بھائی کی کورونا کے ہاتھوں ناگہانی وفات کے بعد نوجون شاعرہ کرن وقار بھی اس موذی مرض کا شکار ہو کر خالقِ حقیقی سے جا ملیں، انا للہ و انا الیہ راجعون۔
No comments:
Post a Comment