Tuesday, 13 April 2021

پھر اس کے بعد چاہے جو سزا بھی دی جاتی

 پھر اس کے بعد چاہے جو سزا بھی دی جاتی

مگر یہ دکھ ہے مِری بات تو سنی جاتی

غمِ فراق میں جینا ہوا ہے نا ممکن

کہ مجھ سے اور اذیت نہیں سہی جاتی

وہ مان جاتا، وہ شاید کہ لوٹ بھی آتا

میں اس کے ساتھ اگر گیٹ تک چلی جاتی

ہر ایک شخص محبت کا اہل نہیں ہوتا

ہر ایک شخص سے نفرت بھی نہیں کی جاتی

جگر کا خون جلا کر ہی بات بنتی ہے

غزل کمال کی یونہی نہیں لکھی جاتی

کرن نگاہیں بھی تو ہمکلام ہوتی ہیں

ہر ایک بات زباں سے نہیں کہی جاتی


کرن وقار

No comments:

Post a Comment