جہانِ خواب میں اک راستہ بناتے ہوئے
میں کھو نہ جاؤں کہیں کچھ نیا بناتے ہوئے
بھڑکتی آگ میں بھی مسکرا کے چلتے رہے
ہم ایک دوسرے کو آسرا بناتے ہوئے
ہزار کوششوں سے کچھ نہیں ملا، لیکن
خود اپنی ذات ملی آئینہ بناتے ہوئے
میں خود ہی ڈوب گئی رات کے اندھیرے میں
تمہارا چہرہ کسی چاند سا بناتے ہوئے
ہوا سے جنگ لڑی ہے بہت دنوں میں نے
کسی کے جسم کی خاطر قبا بناتے ہوئے
جنونِ شوق کے رستے پہ ساتھ چلتے رہے
سحر کے خواب کو ہم نقشِ پا بناتے ہوئے
سبینہ سحر
No comments:
Post a Comment