سلگتی ریت پہ تحریر جو کہانی ہے
مِرے جنوں کی اک انمول وہ نشانی ہے
میں اپنے آپ کو تنہا سمجھ رہا تھا مگر
سنا ہے تم نے بھی صحرا کی خاک چھانی ہے
غموں کی دھوپ میں رہنا ہے سائباں کی طرح
خیالِ گیسوئے جاناں کی مہربانی ہے
کبھی ادھر سے جو گزرے گا کارواں اپنا
تو ہم بھی دیکھیں گے دریا میں کتنا پانی ہے
میں اب بھی شان سے زندہ ہوں شہر قاتل میں
مِرے خدا کی یقیناً یہ مہربانی ہے
برا نہ مانو تو میں صاف صاف یہ کہہ دوں
تمہارے پیار کا دعویٰ فقط زبانی ہے
اندھیرا رہتا نہ باقی کہیں مگر افضل
کب آندھیوں نے چراغوں کی بات مانی ہے
افضل الہ آبادی
No comments:
Post a Comment