نفس نفس میں ہے پیغام معتبر کس کا
سکوں نصیب ہے جلوہ نظر نظر کس کا
ملال کس لیے حالاتِ نا مساعد کا
دیا ہے ساتھ مقدر نے عمر بھر کس کا
ہم اپنی راہ کے بس آخری مسافر ہیں
ہماری راہ سے ہونا ہے اب گزر کس کا
جبینِ شوق عقیدت سے جھکتی رہتی ہے
نظر کے سامنے رہتا ہے سنگِ در کس کا
رئیس کوئی برے وقت کا شریک نہیں
اندھیری رات میں سایہ ہے ہمسفر کس کا
رئیس نیازی
No comments:
Post a Comment