Tuesday, 13 April 2021

ہو سکے یاد کو اپنی طاقت بنا

 مشورہ


بوئے انفاس پر یاد حاوی ہوئی

وصل کی جھلکیاں جھلملانے لگیں

آنکھ سونے سے قاصر ہوئی ان دنوں

مجھ کو سونے کی تلقین مت کیجیے

نظم کی شکل میں درد بہنے لگا

اپنی آنکھوں سے یہ معجزہ دیکھیے

لفظ میری جگہ کرب سہنے لگا

ایسی صورت میں یہ مشورہ مفت ہے

شب کی دہلیز سے تازہ نظمیں اٹھا

ریزہ ریزہ نہ کر کے بدن کو مٹا

ہو سکے یاد کو اپنی طاقت بنا

ہو سکے یاد کو اپنی طاقت بنا


ماجد جہانگیر مرزا

No comments:

Post a Comment