مشورہ
بوئے انفاس پر یاد حاوی ہوئی
وصل کی جھلکیاں جھلملانے لگیں
آنکھ سونے سے قاصر ہوئی ان دنوں
مجھ کو سونے کی تلقین مت کیجیے
نظم کی شکل میں درد بہنے لگا
اپنی آنکھوں سے یہ معجزہ دیکھیے
لفظ میری جگہ کرب سہنے لگا
ایسی صورت میں یہ مشورہ مفت ہے
شب کی دہلیز سے تازہ نظمیں اٹھا
ریزہ ریزہ نہ کر کے بدن کو مٹا
ہو سکے یاد کو اپنی طاقت بنا
ہو سکے یاد کو اپنی طاقت بنا
ماجد جہانگیر مرزا
No comments:
Post a Comment