Tuesday, 13 April 2021

فلک سے گر بلائیں آ رہی ہیں

 فلک سے گر بلائیں آ رہی ہیں 

ذرا ٹھہرو، دعائیں آ رہی ہیں 

میں سمجھا تھا کہ مٹ جائیں گی یادیں 

مگر تازہ ہوائیں آ رہی ہیں 

یہاں اک باغ تھا بستی سے پہلے

پرندوں کی صدائیں آ رہی ہیں 

جو پوچھا قیس نے؛ لیلیٰ کہاں ہے  

کہا؛ تشریف لائیں، آ رہی ہیں 


دانش حیات

No comments:

Post a Comment