میری تنہائی کا چرچا ہونا
شامِ خوشرنگ کا پیلا ہونا
تم جو لاکھوں میں گھِرے بیٹھے ہو
اس کا مطلب تو ہے تنہا ہونا
دلِ کم بخت کو آتا ہی نہیں
کبھی اِس کا، کبھی اُس کا ہونا
خود سے نفرت نہ تمہیں ہو جائے
مجھ سے اتنے نہ شناسا ہونا
حسن تصویر کیا کرتے تھے
آنکھ میں ہجر سراپا ہونا
آغا نثار
No comments:
Post a Comment