Sunday, 11 September 2022

راز کیسا بھی ہو کہنے پہ وہ کھل سکتا تھا

 راز کیسا بھی ہو کہنے پہ وہ کھل سکتا تھا

بات کرنی تھی اگر کل پہ وہ ٹل سکتا تھا

ساتھ ہم دونوں کو اک دوجے کا مل سکتا تھا

"تم کو جلدی تھی کوئی حل بھی نکل سکتا تھا"

ساتھ میرا جو گوارا نہ تھا تجھ کو ہمدم

چاہتا گر تو وہ پھر راہ بدل سکتا تھا

تُو نے سمجھا ہی نہیں دل کی لگی کو ہمدم

عشق کی آگ میں دل میرا بھی جل سکتا تھا

قطرہ قطرہ جو مِرا پیار ٹپکتا اس پر

موم کی طرح تِرا دل بھی پگھل سکتا تھا

تجھ کو کیا سُوجھی بچھڑنے کی رہِ الفت میں

ساتھ ہو بادِ صبا ایسے تو چل سکتا تھا

ڈر گیا ہے تو زمانے سے اے دلبر، ورنہ

پیار میں تُو بھی تو مسعودہ کے ڈھل سکتا تھا


مسعودہ ریاض

No comments:

Post a Comment