اب اگر عشق کے آثار نہیں بدلیں گے
ہم بھی پیرایۂ اظہار نہیں بدلیں گے
راستے خود ہی بدل جائیں تو بدلیں ورنہ
چلنے والے کبھی رفتار نہیں بدلیں گے
دور تک ہے وہی آسیب کا پہرہ اب بھی
کیا مِرے شہر کے اطوار نہیں بدلیں گے
میں سمجھتا ہوں ستارے جو سحر سے پہلے
بجھنے والے ہیں شبِ تار نہیں بدلیں گے
گل بدل جائیں گے جب موسمِ گل بچھڑے گا
جب خزاں جائے گی تو خار نہیں بدلیں گے
لوگ بدلیں گے مفاہیم مسلسل آغاز
اور یہ سچ ہے مِرے اشعار نہیں بدلیں گے
آغاز برنی
No comments:
Post a Comment