Sunday, 11 September 2022

اب اگر عشق کے آثار نہیں بدلیں گے

 اب اگر عشق کے آثار نہیں بدلیں گے

ہم بھی پیرایۂ اظہار نہیں بدلیں گے

راستے خود ہی بدل جائیں تو بدلیں ورنہ

چلنے والے کبھی رفتار نہیں بدلیں گے

دور تک ہے وہی آسیب کا پہرہ اب بھی

کیا مِرے شہر کے اطوار نہیں بدلیں گے

میں سمجھتا ہوں ستارے جو سحر سے پہلے

بجھنے والے ہیں شبِ تار نہیں بدلیں گے

گل بدل جائیں گے جب موسمِ گل بچھڑے گا

جب خزاں جائے گی تو خار نہیں بدلیں گے

لوگ بدلیں گے مفاہیم مسلسل آغاز

اور یہ سچ ہے مِرے اشعار نہیں بدلیں گے


آغاز برنی

No comments:

Post a Comment