Wednesday, 21 April 2021

یہی نہیں کہ فقط پیار کرنے آئے ہیں

 یہی نہیں کہ فقط پیار کرنے آئے ہیں

ہم ایک عمر کا تاوان بھرنے آئے ہیں

وہ ایک رنگ مکمل ہو جس سے تیرا وجود

وہ رنگ، ہم تِرے خاکے میں بھرنے آئے ہیں

ٹھِٹھر نہ جائیں ہم اس عجز کی بلندی پر

ہم اپنی سطح سے نیچے اُترنے آئے ہیں

یہ بُوند خُون کی لوحِ کتابِ رُخ کے لیے

یہ تِل سرِ لب و رُخسار دھرنے آئے ہیں

لگا رہے ہیں ابھی خیمے غم کی وادی میں

ہم اس پہاڑ سے دامن کو بھرنے آئے ہیں

تِرے لبوں کو ملی ہے شگفتگی گُل کی

ہماری آنکھ کے حصے میں جھرنے آئے ہیں

نثار! بندِ قبا کھولنا محال نہ تھا

سو ہم جمالِ قبا بند کرنے آئے ہیں


آغا نثار

No comments:

Post a Comment