کسی سے کوئی نہ بولا فضا ہی ایسی تھی
نہ دل نے دل کو ٹٹولا فضا ہی ایسی تھی
زبانِ درد سے لے کر دہانِ زخم تلک
کوئی بھی کھُل کے نہ بولا فضا ہی ایسی تھی
سکوں کے درپئے آزار سب ہوئے، لیکن
جنوں سے کوئی نہ بولا فضا ہی ایسی تھی
ہوا چلی بھی تو ماحول کے رگ و پے میں
ہوا نے زہر ہی گھولا فضا ہی ایسی تھی
کہیں قریب مکانوں سے اُٹھ رہا تھا دھواں
دریچہ پھر بھی نہ کھولا فضا ہی ایسی تھی
برستی آنکھوں نے آنکھوں سے کچھ سوال کئے
کوئی بھی منہ سے نہ بولا فضا ہی ایسی تھی
رسائی ہو بھی گئی وقت کی عدالت تک
وہاں بھی کوئی نہ بولا فضا ہی ایسی تھی
عجب ستم ہے کہ میزان خیر و شر میں حنیف
یقیں کو وہم میں تولا فضا ہی ایسی تھی
حنیف اسعدی
No comments:
Post a Comment