Wednesday, 21 April 2021

گاؤں رفتہ رفتہ بنتے جاتے ہیں اب شہر

 گاؤں رفتہ رفتہ بنتے جاتے ہیں اب شہر

قریہ قریہ پھیل رہا ہے تنہائی کا زہر

مجھ کو ڈستا رہتا ہے بس ہر دم یہی خیال

ایک ہی رخ پر کیوں بہتا ہے دریا آٹھوں پہر

کون سا بھُولا بِسرا غم تھا جو آیا ہے یاد

رہ رہ کر پھر دل میں اُٹھے درد کی میٹھی لہر

میرا جیتے رہنا بھی تو بن گیا ایک عذاب

لیکن میرا مرنا بھی تو ہو جائے گا قہر

لگتا ہے کچھ انہونی سی ہونے والی ہے

درہم برہم ہونے کو ہے جیسے نظامِ دہر


شفیق سلیمی

No comments:

Post a Comment