Wednesday, 14 December 2016

اس کی اور مری خاطر یہ زمین یہ تارے

اس کی اور مری خاطر 
یہ زمین، یہ تارے
گھومتے ہیں مستی میں
جتنے راز پنہاں ہیں
اوج میں، بلندی پر
اور زمیں کی پستی میں

جانتی ہیں سب کا سب
اس کی اور مری آنکھیں
جو چھپا ہے ہستی میں
ہم نے خود اتارے ہیں
معجزات کے موسم
آرزو کی بستی میں
دوریوں میں سمٹا ہے
اک وصال کا عالم
ایک ربط ہستی میں
شش جہات مستی میں

عنبرین صلاح الدین

No comments:

Post a Comment