اسیرِ خواب نئی جستجو کے در کھولیں
ہوا پہ ہاتھ رکھیں اور اپنے پر کھولیں
سمیٹ اپنے سرابوں میں بارشوں کا جمال
کہاں کا قصد ہے، یہ راز خوش نظر کھولیں
کریں یوں پھر اسے بھولنے کی اک سازش
الجھتی جاتی ہیں گِرہیں ادھورے لفظوں کی
ہم اپنی باتوں کے سارے، اگر مگر کھولیں
جو خواب دیکھنا، تعبیر کھوجنا ہو کبھی
تو پہلے پاؤں سے لِپٹے ہوئے بھنور کھولیں
اِک اینٹ سامنے دیوار سے نکال تو لیں
مگر یہ ڈر کہ نیا کوئی دردِ سر کھولیں
عنبرین صلاح الدین
No comments:
Post a Comment