ایسی ویرانی کہ شہرِ دل کا ہر گھر بے مکیں
ایسی تنہائی کبھی دل نے نہیں جھیلی کہیں
ایسے منظر جن میں دوری کی گھٹا آئے امڈ
ایسی آنکھیں گر برس جائیں تو پھر تھمتی نہیں
ایسا دل جو ٹوٹ کر بکھرا کسی کے عشق میں
آنکھوں آنکھوں میں سہی، یہ فیصلہ ہو لینے دو
یا تو تیرا دل نہیں ہے، یا تو دل تیرا نہیں
نیل احمد
No comments:
Post a Comment