Wednesday, 16 September 2020

ایسی ویرانی کہ شہر دل کا ہر گھر بے مکیں

ایسی ویرانی کہ شہرِ دل کا ہر گھر بے مکیں
ایسی تنہائی کبھی دل نے نہیں جھیلی کہیں
ایسے منظر جن میں دوری کی گھٹا آئے امڈ
ایسی آنکھیں گر برس جائیں تو پھر تھمتی نہیں
ایسا دل جو ٹوٹ کر بکھرا کسی کے عشق میں
ایسے پتھر کو کبھی ٹھوکر نہیں دینا کہیں
آنکھوں آنکھوں میں سہی، یہ فیصلہ ہو لینے دو
یا تو تیرا دل نہیں ہے، یا تو دل تیرا نہیں

نیل احمد

No comments:

Post a Comment