دیپ سے دوستی بناؤں گی
اس طرح روشنی بناؤں گی
خود بناؤں گی تیری دنیا میں
اس میں اپنی کمی بناؤں گی
قافیے دن سے ڈھونڈ لوں گی اور
شام سے شاعری بناؤں گی
میں زمینیں بناؤں گی دو چار
آسماں ایک ہی بناؤں گی
گیلی مٹی ہے، چاک ہے، دم ہے
دیکھنا، آدمی بناؤں گی
نیل احمد
No comments:
Post a Comment