Monday, 21 September 2020

روح کا نظارہ ہے، ایک لامکانی ہے

 روح کا نظارہ ہے، ایک لامکانی ہے

عکس عکس صحرا ہے، آنکھ آنکھ پانی ہے

منزلِ عدم سے کچھ خاص ربط ہے میرا

اضطراب ہے مجھ میں اور بے کرانی ہے

کشتیاں ہیں خوابوں کی نیلگوں سمندر میں

بہہ رہی ہیں تعبیریں، کس قدر روانی ہے

ذہن کی زمیں پر تو کوئی حد نہیں لازم

آسمان میرا ہے اور ضوفشانی ہے

خاک اڑنے لگتی ہے گردشِ تمدن کی

آگہی نہیں ہو تو سب ہی بے معانی ہے

یعنی کن سے پہلے بھی زندگی تو زندہ تھی

یعنی زندگی کی ہر کیفیت پرانی ہے

پی لیا اصولوں پر زہر کا پیالہ بھی

یہ بھی اک حقیقت ہے، یہ بھی اک کہانی ہے


نیل احمد

No comments:

Post a Comment