گڑیا
کھلونا تو نہیں ہوں میں
نا مٹی کا کوئی بت ہوں
کہ جب تم ہاتھ کو موڑو نہیں
ہو گی مجھے تکلیف
کہ جب تم آنکھ کو پھوڑو تو
چیخیں بھی نہ نکلیں گی
بنا سوچے
بنا دیکھے مِری شادی
کسی گُڈے سے کر دو گے
مِرے سر میں کسی بھی نام کا
سِیندور بھر دو گے
مجھے مجھ سے بنا پوچھے
مجھی سے دور کر دو گے
سنو یہ جان لو تم بھی
سنو یہ جان لو تم بھی
مروت چھوڑ دی میں نے
جسے گڑیا سمجھتے تھے
وہ گڑیا توڑ دی میں نے
نیل احمد
No comments:
Post a Comment