Friday, 15 April 2022

وہ گڑیا توڑ دی میں نے

 گڑیا


کھلونا تو نہیں ہوں میں

نا مٹی کا کوئی بت ہوں

کہ جب تم ہاتھ کو موڑو نہیں 

ہو گی مجھے تکلیف

کہ جب تم آنکھ کو پھوڑو تو 

چیخیں بھی نہ نکلیں گی

بنا سوچے

بنا دیکھے مِری شادی 

کسی گُڈے سے کر دو گے

مِرے سر میں کسی بھی نام کا 

سِیندور بھر دو گے

مجھے مجھ سے بنا پوچھے 

مجھی سے دور کر دو گے

سنو یہ جان لو تم بھی

سنو یہ جان لو تم بھی

مروت چھوڑ دی میں نے

جسے گڑیا سمجھتے تھے

وہ گڑیا توڑ دی میں نے


نیل احمد

No comments:

Post a Comment