Friday, 15 April 2022

شور قدموں کا پہنچ جاتا ہے دروازے تک

 شور قدموں کا پہنچ جاتا ہے دروازے تک

مجھ سے کچھ پہلے ہی وہ آتا ہے دروازے تک

یوں بھی ہوتا ہے کہ جب لمبے سفر پر نکلوں

ہر قدم پر کوئی سمجھاتا ہے دروازے تک

کھٹکھٹائے کوئی دروازہ اگر رات گئے

میرا دل صحن سے گھبراتا ہے دروازے تک

جانی پہچانی سی دستک میں کشش ہے کتنی

آدمی کھنچتا چلا آتا ہے دروازے تک

اہلِ خانہ سے جو ہو جاتی ہے رنجش پرویز

چھوڑنے کوئی نہیں ‌آتا ہے دروازے تک


پرویز اختر

No comments:

Post a Comment