Friday, 15 April 2022

دھوپ سے رشتہ ہے لیکن سائبانوں کی طرح

 دھوپ سے رشتہ ہے لیکن سائبانوں کی طرح

ہم زمیں پر بھی رہے تو آسمانوں کی طرح

تب سے اس کی دشمنی پر اعتبار آنے لگا

مشورے دیتا ہے جب سے مہربانوں کی طرح

رات بھر عرض تمنا،۔ صبح کو فکر معاش

ہر گھڑی گزری ہے مجھ پر امتحانوں کی طرح

مے کدہ، ساقی، صراحی اور ساغر آج بھی

یاد آتے ہیں مگر گزرے زمانوں کی طرح

موت صحرا میں چمکتے پانیوں کا سلسلہ

زندگی برسات میں کچے مکانوں کی طرح


یونس خیال

No comments:

Post a Comment