دید کی خواہش لگا رکھی ہے اپنے یار سے
اور تم کو مل بھی کیا سکتا ہے اس بیمار سے
یہ ضروری تو نہیں ہے ہر شجر پھل دار ہو
ہم امیدیں باندھ لیتے ہیں سبھی اشجار سے
پھر وہی چیزوں کی باتیں، پھر وہی لوگوں کے عیب
آپ بوجھل ہی نہیں ہوتے گُنہ کے بار سے
یہ خرد بھی واہمہ ہے زندگانی کی طرح
کیوں نہیں نکلے ابھی تک آپ اندھے غار سے
یوں ہی تو ہر کھیل کے آتے نہیں ہیں قاعدے
جیتنا سیکھا ہے میں نے اپنی ہر اک ہار سے
سب سے کٹ کر اپنے اندر جھانکنا پڑتا ہے نیل
خود شناسی کا ہنر ملتا نہیں بازار سے
نیل احمد
No comments:
Post a Comment