Monday, 21 March 2022

دید کی خواہش لگا رکھی ہے اپنے یار سے

 دید کی خواہش لگا رکھی ہے اپنے یار سے

اور تم کو مل بھی کیا سکتا ہے اس بیمار سے

یہ ضروری تو نہیں ہے ہر شجر پھل دار ہو

ہم امیدیں باندھ لیتے ہیں سبھی اشجار سے

پھر وہی چیزوں کی باتیں، پھر وہی لوگوں کے عیب

آپ بوجھل ہی نہیں ہوتے گُنہ کے بار سے

یہ خرد بھی واہمہ ہے زندگانی کی طرح

کیوں نہیں نکلے ابھی تک آپ اندھے غار سے

یوں ہی تو ہر کھیل کے آتے نہیں ہیں قاعدے

جیتنا سیکھا ہے میں نے اپنی ہر اک ہار سے

سب سے کٹ کر اپنے اندر جھانکنا پڑتا ہے نیل

خود شناسی کا ہنر ملتا نہیں بازار سے


نیل احمد

No comments:

Post a Comment