Monday, 21 March 2022

کچھ اس طرح سے فراغت کا انتظام کیا

 کچھ اس طرح سے فراغت کا انتظام کیا

کہ اپنا چھوڑ کے دنیا نے میرا کام کیا

وہ کہہ دیا ہے جو کہنا تھا، صاف گوئی میں

غبارِ حرف و بیاں کا نہ اہتمام کیا

خرامِ اشک سے اب آئینوں کی بنتی نہیں

عجیب، چشمِ تحیر نے انتظام کیا

کسی طلب کا کب اظہار کر رہا تھا میں

سکوت لب نے بھی، آنکھوں نے بھی کلام کیا

تضادِ آئینۂ صبح و شام سے جا کر

کہیں پہ میں نے شب و روز میں قیام کیا

یہ اعتماد مِرا دل پہ ہے کہ دنیا پر

کہ عشق سے نہیں کاریگری سے نام کیا

کھنچی رہی ہے، کوئی مجھ سے قربتِ دوری

میں سامنے کی ملاقات کو سلام کیا

اسی لیے تو کوئی بادِ وصل چلتی رہی

کسی کے ہجر کو، میں نے خیالِ شام کیا

کوئی فصیل کہیں روز گرنے لگتی ہے

کہ جو بنایا نہیں اس کا اہتمام کیا

مِرے غبار مِرے سر پہ اور بار نہ ہو

یہی بہت ہے تجھے خاک سے امام کیا

اسی کے بس میں تھا نفرت کا خاتمہ عارف

اسی لیے تو محبت کو پہلے عام کیا


عسکری عارف

No comments:

Post a Comment