تیرے سوا جو دیکھے اسے آنکھ پھاڑ کر
رکھ دینا ایسے شخص کا حلیہ بگاڑ کر
کب تک بُتوں کی طرح تکے گا اسی کو تُو
پہلو میں بیٹھ اس کے زرا چھیڑ چھاڑ کر
پی کر نگاہ ناز سے تُو لڑکھڑا کے گر
سُونی گلی میں شور مچا بھیڑ بھاڑ کر
تیری زبانِ فیض سے سننے حدیثِ عشق
آئے ہیں کام دھام سبھی چھوڑ چھاڑ کر
تجھ کو ادب سے ہو جو لگاؤ تو اے اسد
کچھ شعر فی البدیہہ سُنا جوڑ جاڑ کر
اسد ہاشمی
No comments:
Post a Comment