Monday, 21 March 2022

تیرے سوا جو دیکھے اسے آنکھ پھاڑ کر

 تیرے سوا جو دیکھے اسے آنکھ پھاڑ کر

رکھ دینا ایسے شخص کا حلیہ بگاڑ کر

کب تک بُتوں کی طرح تکے گا اسی کو تُو

پہلو میں بیٹھ اس کے زرا چھیڑ چھاڑ کر

پی کر نگاہ ناز سے تُو لڑکھڑا کے گر

سُونی گلی میں شور مچا بھیڑ بھاڑ کر

تیری زبانِ فیض سے سننے حدیثِ عشق

آئے ہیں کام دھام سبھی چھوڑ چھاڑ کر

تجھ کو ادب سے ہو جو لگاؤ تو اے اسد

کچھ شعر فی البدیہہ سُنا جوڑ جاڑ کر


اسد ہاشمی

No comments:

Post a Comment