Sunday, 12 December 2021

چیر کے دھرتی کو پھر زیر زمِیں اتروں گا

چیر کے دھرتی کو پھر زیرِ زمِیں اتروں گا

چاک کر کے یہ فلک عرش پہ جا پہنچوں گا

 میں نہ محبوسِ مکاں ہو کے رہوں گا ہرگز

آرزو دل میں یہ جاگی ہے، جہاں دیکھوں گا

آب میں، باد میں، افلاک میں، کوہساروں میں

چاند تاروں میں، نہاں رنگِ جہاں دیکھوں گا

ٹوٹ کر ذوقِ نظر کی حدیں گر جائیں گی

اور پھر مختلف سمتوں میں بکھر جائیں گی

اپنی مُٹھی میں جہاں بھر کو مقید کر کے

رنگ و بُو دیکھوں گا، میں رنگِ جہاں دیکھوں گا


قاضی نذرالاسلام

ترجمہ: احمد سعدی

No comments:

Post a Comment