گیت
بھول جانے کا ہنر مجھ کو سکھاتے جاؤ
جا رہے ہو تو سبھی نقشِ مٹاتے جاؤ
چلو رسماً ہی سہی مڑ کے مجھے دیکھ تو لو
توڑتے توڑتے تعلق کو نبھاتے جاؤ
کبھی کبھی یہ مجھے ستائے
کبھی کبھی یہ رلائے
فقط میرے دل سے اتر جائیے گا
بچھڑنا مبارک بچھڑ جائیے گا
میں سمجھا تھا
تم ہو تو کیا اور مانگوں؟
میری زندگی میں میری آس تم ہو
یہ دنیا نہیں ہے میرے پاس تو کیا
میرا یہ بھرم تھا میرے پاس تم ہو
مگر تم سے سیکھا
محبت بھی ہو تو دغا کیجیۓ گا
مکر جائیے گا
تیرا ہاتھ کل تک میرے ہاتھ میں تھا
تیرا دل دھڑکتا تھا دل میں ہمارے
یہ مخمور آنکھیں جو بدلی ہوئی ہیں
کبھی ہم نے ان کے ہیں صدقے اتارے
کہیں اب ملاقات ہو جائے ہم سے
بچا کے نظر کو گزر جائیے گا
اب جینا ہے تیرے بنا
جینا ہے اب مجھ کو تیرے بنا
خلیل الرحمان قمر
No comments:
Post a Comment