مکالماتی کلام
اُس نے کہا کہ آپ سے وابستگی نہیں
میں نے کہا کہ پھر تو میری زندگی نہیں
اُس نے کہا کہ مجھ کو مکمل کی ہے تلاش
میں نے کہا کہ ایسا کوئی آدمی نہیں
اُس نے کہا کہ عشق و محبت فضول ہے
میں نے کہا کہ متفق اس سے کوئی نہیں
اُس نے کہا کہ میں ہی ہمیشہ سے حق پہ ہوں
میں نے کہا کہ ایسا تو ہوتا کبھی نہیں
اُس نے کہا کہ درد کا کچھ دائمی علاج؟
میں نے کہا کہ درد کوئی دائمی نہیں
اُس نے کہا کہ مجھ کو نفی کر کے سوچئے
میں نے کہا کہ دنیا کسی کام کی نہیں
اُس نے کہا کہ زندگی سے چاہتے ہو کیا
میں نے کہا کہ تُم ہو تو کوئی کمی نہیں
اُس نے کہا کہ آج سے مطلب کی ہو گی بات
میں نے کہا معاف کہ میں مطلبی نہیں
اُس نے کہا فراز! اگر رُت بدل گئی؟
میں نے کہا کہ عشق میرا موسمی نہیں
منیر فراز
No comments:
Post a Comment