دعا گرفت میں ہے بد دعا گرفت میں ہے
کوئی تو بولو کہ خلقِ خدا گرفت میں ہے
بجائے گھٹنے کے بڑھنے لگا ہے استحصال
اناج پہلے سے تھا، اب ہوا گرفت میں ہے
سمجھ کے خود کو پھرے ہے تُو بندۂ آزاد
گرفت میں ہے، تُو بے انتہا گرفت میں ہے
کئی دنوں سے ہیں نوحہ کناں گل و بلبل
بتایا جاتا ہے بادِ صبا گرفت میں ہے
اسے خبر ہے کہ ہم مشکلوں سے جی رہے ہیں
اسی لیے تو ہماری قضا گرفت میں ہے
گواہ رہنا ستم ہائے عشقِ شوریدہ
ہیں بلبلاتے کہ صبر و رضا گرفت میں ہے
رہا ہوئے بھی تو بس چند آنسوؤں کے جلوس
وگرنہ شہر کی آہ و بکا گرفت میں ہے
اسی لیے تو یہ ہے مسخ ہو چکا اتنا
معاشرے کی سزا و جزا گرفت میں ہے
ہے چاروں سمت سے گھیرا گیا محبت کو
وفا گرفت میں چشمِ خفا گرفت میں ہے
فرحت عباس شاہ
No comments:
Post a Comment