Monday, 7 February 2022

مختصر سی زندگی میں کتنی نادانی کرے

مختصر سی زندگی میں کتنی نادانی کرے

ان نظاروں کو کوئی دیکھے کہ حیرانی کرے

دھوپ میں ان آبگینوں کو لیے پھرتا ہوں میں

کوئی سایہ میرے خوابوں کی نگہبانی کرے

ایک میں ہوں اور دستک کتنے دروازوں پہ دوں

کتنی دہلیزوں پہ سجدہ ایک پیشانی کرے

رات ایسی چاہیئے مانگے جو دن بھر کا حساب

خواب ایسا ہو جو ان آنکھوں میں ویرانی کرے

ساحلوں پر میں کھڑا ہوں تشنہ کاموں کی طرح

کوئی موج آب میری آنکھ کو پانی کرے


مہتاب حیدر نقوی

No comments:

Post a Comment