Monday, 7 February 2022

سبز کرنوں سے اجالا کر دے

 سبز کرنوں سے اجالا کر دے

اب مجھے اپنا حوالہ کر دے

شب کے آنگن میں ٹہل کر کچھ پل

چاند کو جسم کا ہالہ کر دے

مسکراہٹ کی جلا کر مشعل

ہر اداسی تہ و بالا کر دے

کھول کر عہد کے خیمے کی طناب

اب محبت کا ازالہ کر دے

خود کو منظر کے سراپے میں اتار

اور مجھے دیکھنے والا کر دے

بک گئی جنسِ محبت ساری

بند بازار کا تالا کر دے

میرے لفظوں کو بنا کر پنچھی

اپنا مفہوم ہمالہ کر دے

اے خدا خواہشِ عباس ہے یہ

دل غلامِ شہ والاﷺ کر دے


حیدر عباس

No comments:

Post a Comment