سبز کرنوں سے اجالا کر دے
اب مجھے اپنا حوالہ کر دے
شب کے آنگن میں ٹہل کر کچھ پل
چاند کو جسم کا ہالہ کر دے
مسکراہٹ کی جلا کر مشعل
ہر اداسی تہ و بالا کر دے
کھول کر عہد کے خیمے کی طناب
اب محبت کا ازالہ کر دے
خود کو منظر کے سراپے میں اتار
اور مجھے دیکھنے والا کر دے
بک گئی جنسِ محبت ساری
بند بازار کا تالا کر دے
میرے لفظوں کو بنا کر پنچھی
اپنا مفہوم ہمالہ کر دے
اے خدا خواہشِ عباس ہے یہ
دل غلامِ شہ والاﷺ کر دے
حیدر عباس
No comments:
Post a Comment