یہ جو اوباش لڑکے
تمہیں دیکھنے کو
تیرے رستوں میں آنکھیں بچھائے
گھڑیوں میں تیرے آنے جانے
کے اوقات کا الارم لگائے
مقررہ وقت پر
تیرے رستوں میں کھڑے ہوتے ہیں
تم تو انہیں پابندئ وقت سیکھا رہی ہو
ان کا اک طرح سے
ایمان مکمل کروا رہی ہو
تو کیا؟
خدا تمہیں اس کا اجر
نہیں دے گا؟
ملکۂ حسن
تمہیں دیکھنے کو
تمہیں ملنے کو
تیرے رستوں کا
فیض پانے کو
تجھے اپنا بنانے کو
صاف ستھرے کپڑوں میں ملبوس
Foog , Gucci, Armani
کے پرفیوم لگائے
اک عجب سا ماحول بنائے
اپنا نصف ایمان مکمل کئے
تیرے رستوں میں کھڑے ہیں
تم ان سب اوباشوں کا ایمان مکمل کروا رہی ہو
اک نیا عجب سا خوشگوار سا احساس انہیں دلا رہی ہو
اے حورِ فرش
کیا خدا تمہیں
اس کا اجر
نہیں دے گا؟
علی رضا
No comments:
Post a Comment