Monday, 7 February 2022

زیادہ ہو گئی ہے یہ ذرا سی کم نہ ہو پائی

 زیادہ ہو گئی ہے یہ ذرا سی، کم نہ ہو پائی

لگائے قہقہے، لیکن اداسی کم نہ ہو پائی

امیرِ شہر کا تو بڑھ گیا ہے کام کپڑے کا

مگر اس شہر میں کیوں بے لباسی کم نہ ہو پائی

جہاں گرما گرم کی لت وہاں ٹھنڈے پڑے چولہے

جنہیں روٹی ملا کرتی ہے باسی، کم نہ ہو پائی

غریبوں نے دیا محصول میں اپنا پسینہ بھی

کرپشن ملک میں لیکن سیاسی کم نہ ہو پائی

سکوں دینے کو کافی ہے انہیں لوٹی ہوئی دولت

مگر بھاگے ہوؤں کی بد حواسی کم نہ ہو پائی


جاوید جدون

No comments:

Post a Comment