Sunday, 14 November 2021

ابھی رسوائیوں کا اک بڑا بازار آئے گا

 ابھی رسوائیوں کا اک بڑا بازار آئے گا

پھر اس کے بعد ہی وہ کوچۂ دلدار آئے گا

وطن کی ایک تصویر خیالی سب بناتے ہیں

خبر لیکن نہیں کیا اس میں کوئے یار آئے گا

گلِ شاخِ محبت پر لہو کا رنگ کھلتا ہے

کہ اب رنگِ حنا ذکرِ لب و رخسار آئے گا

ہمارے واسطے بھی ساعت ہموار ٹھہرے گی

کہ راہِ شوق میں جس دم وہ نا ہموار آئے گا

ابھی آب و ہوائے جسم کے اسرار کھلتے ہیں

ابھی وہ توڑنے اس جسم کی دیوار آئے گا

کرو اہلِ جنوں کچھ تو کرو سامانِ دلداری

کہ شہرِ عشق میں وہ شوخ پہلی بار آئے گا


مہتاب حیدر نقوی

No comments:

Post a Comment